بنگلورو، یکم مئی (خصوصی رپورٹ: منیراحمد آزاد) پچھلے سال کورونا کی پہلی لہر کے دوران کورونا متاثرین کا علاج کرنے ڈاکٹروں کے پاس یا اسپتالوں میں کوئی ٹھوس دوائی یا انجکشن نہیں تھا، اس کے باوجود ڈاکٹرس مختلف دوائیوں کا استعمال کرکے اکثر مریضوں کو بچالیتے۔ اب ہمارے پاس کورونا مریضوں کے علاج کے لئے ریمڈیسیور کی شکل میں مخصوص انجکشن آچکا ہے۔ اس کے باوجود کورونا اموات میں زبردست اضافہ ہوا ہے۔ کورونا مریضوں کے کے لئے اسپتالوں میں بیڈس نہیں، آکسیجن کی قلت ہے، آئی سی یو بیڈس نہیں، وینٹی لیٹرس نہیں، کورونا متاثرین بروقت انہیں بیڈ، آکسیجن نہ ملنے کی وجہ سے سڑکوں پر اسپتالوں کے باہر دم توڑ رہے ہیں۔
کورونا کے پچھلے مرحلہ میں اگر کسی شخص کا ٹسٹ پوزیٹیو آتا اور کہیں چھپ بھی جاتا تو کورونا وارئرس اس کو تلاش کرکے زبردستی اس کو ایمبولینس میں بٹھا کر کورونا کیر سنٹر یا اسپتال لے جا کر بھرتی کرتے۔ کورونا سے صحت یاب ہونے کے بعد بھی اس شخص کو آئسولیشن کردیا جاتا، حکام کی اس پرکڑی نظر ہوتی۔ جس علاقے میں دو سے زیادہ کورونا متاثرین پائے جاتے تو اس کوکنٹینمنٹ زون قرار دے کر سیل ڈاؤن کردیا جاتا۔
اب کورونا کی دوسری لہر میں کورونا پوزیٹیو ٹسٹ ظاہر ہونے کے بعد بھی اکثر متاثرین اپنے گھروں میں بیڈ کا انتظار کررہے ہیں۔بیڈ یا آئی سی یو کی تلاش میں گلی کوچوں میں بازاروں میں مارے مارے پھر رہے ہیں۔نہ جانے ان کے رابطہ میں آنے والے اور کتنے لوگ متاثر ہورہے ہیں۔حکام نے کبھی اس پر غور کیا ہے؟ ٹسٹ پوزیٹیو ظاہر ہوتے ہی ایسے متاثرین کو عام لوگوں سے الگ تھلگ آئسولیٹ کرنے کے لئے اس وقت حکومت کے پاس کوئی ٹھوس منصوبہ ہے؟ حکومت اس وقت جتنی توجہ لاک ڈاؤن پر دے رہی ہے اگر اتنی توجہ اسپتالوں میں آئی سی یو، آکسیجن کی فراہمی، حسب ضرورت کووڈ مریضوں کے علاج کے لئے درکار دوائیوں کی سربراہی کو یقینی بنانے پر دیتی تو اموات کی تعداد کم ہوسکتی تھی۔
اس وقت بی بی ایم پی سے تعینات مارشل کی زیادہ توجہ ماسک نہ پہننے والوں سے جرمانہ وصولی پر ہے اور ان مارشلوں کے لئے اب مخصوص گاڑیوں کا بھی انتظام کردیاگیا ہے۔ ان مارشلوں کو متاثرین کی نشاندہی ہونے پر انہیں مناسب اسپتالوں کو پہنچانے اور ان کے لئے بیڈوں کا انتظام کرنے پر تعینات کیا جاتا تو ہزاروں لوگ متاثرین سے انفیکٹ ہونے سے بچ جاتے۔اکثر متاثرین جن کا تعلق کمزور اور درمیانی طبقات سے انہیں بے یارو مددگار اسپتالوں کے سامنے اور سڑکوں پر چھوڑ دیا گیا ہے جو بروقت علاج نہ ہونے کی وجہ سے فوت ہورہے ہیں۔اب بھی اگر حکومت لاک ڈاؤن جیسی توجہ متاثرین کا بروقت علاج کروانے کو یقینی بنانے میں لگائے تو اموات پر قابو پایا جاسکتا ہے۔
(بشکریہ: روز نامہ سالار، بنگلورو بتاریخ یکم مئی 2021)